منگل، 31 مئی، 2016

گولین گول منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت، وزیر اعظم نوازشریف کی ہدایت پر منصوبے سے 30 میگاواٹ بجلی چترال کو فراہم کردی جائے گی

گولین گول منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت،  وزیر اعظم نوازشریف کی ہدایت پر منصوبے سے 30 میگاواٹ بجلی چترال کو فراہم کردی جائے گی
چترال ، گولین گول ( ابوالحسنین: ٹائمز آف چترال 31 مئی 2016)   گولین گول ، چترال میں زیر تعمیر 108 میگا واٹ کے ہائیڈرو پاور منصوبے پر کام تیز کردیا گیا ہے۔ منصوبےکا یونٹ نمبر 1  جوکہ ضلع چترال کے لئے مختص ہے ،کے قابل اعتمادی  کو جانچنے کے لئے  یونٹ کو اکتوبر 2017 میں چلایا جائے گا تاہم  جون 2017 تک یونٹ نمبر 1 کو مکمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
یہ بات واپڈا کے چیرمین ظفر محمود نےمنصوبے کے دورے کے موقع پر بتائی۔ اس موقع پر واپڈا کے جنرل منیجر نارتھ (پروجیکٹس)، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور منصوبے کے کنسلٹنٹس کے نمائندے اور ٹھیکہ دار موجود تھے۔
  
دورے کے دوران چیرمین واپڈ نے منصوبے کے تمام حصوں بشمول ڈیم، ڈائورژن ٹنل،  پاور ہاوس، سوئچ یارڈ، ٹرانسمیشن لائن وغیرہ کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اس موقع گفتگو کرتے ہوئے چیرمین واپڈا نے کہا کہ بشمول گولین گول پاور منصوبے کے تمام ہائیڈر پاور منصوبوں کی بروقت تکمیل سے نہ صرف بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی آئے گی بلکہ صارفین کو سستی بجلی بھی میسر آئے گی۔ انہوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے حوالے سے کہا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ واپڈا گولین گول بجلی گھر سے 30 میگا واٹ بجلی ضلع چترال کو فراہم کرے۔ کیونکہ 2015 کے سیلاب کی وجہ سے چترال کے کئی علاقوں میں موجود چھوٹے ہائیڈ پروجیکٹس کو بڑا نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے کئی علاقے بجلی سے محروم ہیں۔

چیرمین نے گولین گول ہائیڈرو منصوبے پر جاری کام پر اطمیان کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کے انتظامیہ کو منصوبے پر الیکٹرو میکینیکل کام مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ  سول اور الیکٹرومیکینکل کام کے ساتھ ساتھ ٹرانس میشن لائن کے کام کو بھی وقت پر مکمل کرنا اتنا ہی ضروری ہے۔ تاکہ منصوبے کی تکمیل کے بعد پیدا ہونے والی بجلی کو نیشنل گرڈ تک پنچائی جا سکے۔ 

چیرمین نے اس امید کا اظہار کیا  کہ گولین گول منصوبہ نہ صرف بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان خلا کو کرنے میں معاون ہوگا بلکہ صوبہ خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں جیسے چترال کے لئے معاشی اور معاشرتی بہتری میں بھی کردار ادا کرے گا۔ 
جنرل منیجر (پروجیکٹس) نارتھ نے گولین گول منصوبے پر کام پر چیرمین کو بریفینگ دی۔ انہوں نے منصوبے کو درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا جن میں مالی مسئلہ سب سے اہم ہے۔  
گولین گول منصوبہ گولین کے مقام پر زیر تعمیر ہے۔ گولین چترال شہرسے 25 کلومیٹر اور پشاور سے 380 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دریائے مستوج میں شامل ہونے والے دریا گولین پر یہ منصوبہ بن رہا ہے۔  تکیمل کے بعد منصوبہ 442 ملین یونٹس سالانہ سستی ہائیڈل بجلی نیشنل گرد میں شامل کرے گا۔



جمعہ، 20 مئی، 2016

HBL and MasterCard launch HBL Nisa Debit MasterCard

Karachi:  HBL recently hosted MasterCard at an event to commemorate the launch of HBL Nisa Debit MasterCard at a ceremony held at HBL Plaza, Karachi.  The HBL Nisa Debit MasterCard serves as an extension of the banking platform launched by HBL, designed exclusively for the women of Pakistan.  

With one of the largest shares of female customers in Pakistan, HBL is committed to bring millions of women into the banking fold with HBL Nisa, by providing them tailor-made banking products andservices.

Leading the event, HBL was represented by Ms. Sima Kamil, Head of Branch Banking, Mr. Naveed Asghar, Chief Marketing Officer, Mr. Danysh Hashmi, Head of Retail Product Group and Ms. Samira Omer, Head of Women Market Program.

Also present at the event were senior MasterCard officials, including Mr. Aurangzaib Khan, Vice President, Country Manager, Pakistan & Afghanistan, Mrs. Elcin Yanik, Director, Group Head, Market Development, Middle East & Africa and Mr. Nabeel Ahmad, Vice President, Business Development for Pakistan & Afghanistan Markets.

Speaking on the event, Ms. Sima Kamil said, “The launch of HBL Nisa demonstratesour continued commitment towards financial inclusion of this highly under-banked segment. HBL aims to be the bank of choice for women across the nation and HBL Nisa Debit MasterCard is a fitting addition to our diverse range of products.”

Mr. Aurangzaib Khan, Vice President, Country Manager, Pakistan & Afghanistan, MasterCard, said: “Driving the financial inclusion of women around the world is one of MasterCard’s top priorities and the launch of exclusive products such as the HBL Nisa Debit MasterCard, marks another step forward in our journey to achieving this ambitious vision. We are pleased to collaborate with HBL to introduce this card featuring financial services and benefits that cater specifically to the needs of the Pakistani women, led by a shared vision of financial empowerment for this important segment.” 

Mrs. Elcin Yanik, Director, Group Head, Market Development, Middle East & Africa, MasterCard, said: “Pakistan is an extremely significant market for MasterCard and we are delighted to expand the scope of our services in the country with this collaboration with HBL that will help drive large scale financial inclusion for women and in turn provide them with the many opportunities that come with greater financial freedom and security.”

HBL is the largest bank in Pakistan with over 1,600 branches, 1,900 ATMs, and

customer base exceeding eight and a half million.  HBL has presence in over 25 countries across four continents.”



جمعرات، 19 مئی، 2016

یہ ویڈیو دیکھ کر ہنسی نہ آئی پیسے واپس

جمعرات، 10 دسمبر، 2015

اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔

اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی
بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔اب پاکستان بھی بولے گا۔۔۔۔


Main ab bolon ga bhai.....